جان فرسا

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - جان کو گھسنے یا گھٹانے والا، خوف ناک، جان کو رگڑنے والا۔ "مجھ پر رحم فرمائیے اور اس مرض جاں فرسا سے نجات دلائیے۔"      ( ١٩٠٥ء، لمعۃ الضیا، ٦٥ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'جان' کے ساتھ فارسی مصدر 'فرسودن' سے مشتق صیغہ امر 'فرسا' بطور لاحقہ فاعلی ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٩٠٥ء میں "لمعۃ الضیا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جان کو گھسنے یا گھٹانے والا، خوف ناک، جان کو رگڑنے والا۔ "مجھ پر رحم فرمائیے اور اس مرض جاں فرسا سے نجات دلائیے۔"      ( ١٩٠٥ء، لمعۃ الضیا، ٦٥ )